اب توقتل کا
الزم بھی ہمیں پہ رکھدو
دنیامیں
مسلم قوم وہ پہلی قوم ہے جس کے سر غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بھی قتل کا الزام
ہےچہ جائےکہ کسی دوسرے مذہب کےماننے والے پر کوئی حملہ ہواخواہ کسی ا ور نے ہی کیا ہو اگر داعش جیسی مسلمانوں کو بدنام کرنے والی تنظیم
موجود ہو جسے امریکی ،اسرائیلی در پردہ تعاون حاصل ہےتو یہ کام اورآسان
ہوجاتاہے۔
پیرس
حملہ اسی سازش کا شاخسانہ ہے یقینا اس حملہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہےاورہم تو ایک مسلمان ہونے کی بنیاد پر اس کی اور بھی
مذمت کرتے ہیں اس لئے کہ اسلام میں کسی ایک شخص کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا
قتل قراردیاگیاہے ،پیر س حملے میں ایک سواٹھائیس بے قصور لوگوں کوفنا کے گھاٹ اتار دیا جائے جس میں عورتیں اوربچے بھی شامل ہوں یہ قطعی اسلام نہیں ہو سکتا ۔ اسلام تو وہ ہےجوجنگ
کے میدان میں بھی عورتوں اوربچوں اور ضعیفوں پر ہاتھ اٹھانے سے منع کرتاہے اگر چہ
وہ مقابلہ میں ہوں ۔ اب یہ غور کرنے کا
مقام ہے کہ جان لینے کی اجازت کیسے دے سکتاہے ؟یقینی طور پرداعش اور اس جیسی کسی
بھی تنظیم کا اسلام ومسلمین سے کوئی واسطہ
نہیں بلکہ یہ دشمنانِ اسلام ہیں جو اسلام کے نام غیر
اسلامی کام کرتے ہیں ۔
اس موقع پر ایک بات ذکر ہے ۔جب برطانیہ میں
دوفوجیوں پر حملہ کرکے انھیں قتل کر دیا گیا
تو اس وقت وزیرِ اعظم ڈیوڈکیمرون فرانس کے
ایک کانفرنس میں شریک تھے فوراََ کانفرنس چھوڑ کر برطانیہ واپس آئے اور یہ تاریخی ،مبنی بر
حقیقت بیان دیاکہ جنھوں نے فوجیوں کو قتل کیا ہے وہ سب کچھ تو
ہوسکتے ہیں مگرمسلمان نہیں ہوسکتےان کا
اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اسلام میں قصاص کا قانون
صرف قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہونچاتا ہے
اور عراق کو تو کسی اور نے تباہ کیاہے
وہاں کا قاتل تو کوئی اور ہے اوربدلہ (قصاص)برٹین
کی فوج سے لیاجارہا ہے یہ تو اسلام پہ ہی
ظلم ہے،اسلام کی بر سرِ عام خلاف ورزی ہے
۔اسی وقت مفکراسلام علامہ قمرالزماں خان اعظمی (جنرل سکریٹری، ورلد اسلامک
مشن لندن )نے ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان کا
استقبال کرتے ہوئے مفکرِ اسلام نے یہ کہا تھاکہ مغربی دنیا کا یہ پہلا شخص ہے جس
نے اسلام کی صحیح تصویر پیش کی اور وہ باتیں کہہ دیں جو عرب دنیا کی زبانوں سے بھی نہیں نکلتیں
ہیں۔مفکر اسلام کے اس بیان کو پڑھ کر ڈیوڈ کیمرون خود ان سے ملنے ان کی مسجد تک
آئے ڈھائی گھنٹے تک ان سے گفتگو کی ۔عا م
طور سے جن(صدر ملک ، وزیر اعظم وغیرہ) کے ہاتھوں میں ذمامِ حکومت ہو وہ چالیس منٹ
سے زیادہ وقت کسی کو نہیں دیتے مگر یہ
اسلام کی کشش اور مفکر اسلام کی گفتگو کا اثرتھا جو انہیں اتنی دیر تک روکے رکھا ۔ لیکن پیرس
حملہ کے بعد ان کا بھی ذہن بدل گیا تبھی تویہ
بیان دیا کہ ‘‘ یہ پیرس پہ حملہ اعلان جنگ ہے’’
تما م ہمدردانِ قوم سے میری گزارش ہے کہ اگر اسلام کے بد خواہ داعش اور بو کو حرام جیسی
خونخوارتنظیموں کو پسِ پردہ اسکی
پشت پناہی کرکے اسلام کو بدنام
کررہے ہیں تو ہماری بھی کوئی ایسی تنظیم ہو جس کے اخلاق و کردار ،عادت و اطوار،قول
و قرار کے ذریعہ اسلام کی صحیح تصویر پیش
کی جائے۔واللہ الموفق
محمد
طاہر رضا جامعی
الجامعہ
الاسلامیہ روناہی فیض آ باد
No comments:
Post a Comment