Thursday, March 31, 2016

بعثت انبیا علیہم السلام کے چند اہم مقاصد

اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے ساری کائنات کو پیدا فرمایا اوریہ کہ  اسکا کو   ئی  بھی کام معلل بالاغراض نہیں ہوتا ۔ ہاں یہ ہیکہ اس نے اپنے تمام مخلوق کے ذمہ کچھ نہ کچھ چیزیں لازم کردی ہے جسے وہ انجام دیتے رہتے ہیں ۔زمین ،آسمان ،چاند   سورج ،آگ پانی مٹی ہوا  الغرض تمام کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے جسے وہ بحسن و خوبی نبھاتے رہتے ہیں۔اسی طرح اشرف المخلوق کو   کرامت و فضل سے نوازا   اوراسے اپنی عبادت و معرفت کے لیے مختص فرما دیا ۔ اور اس انسانی مخلوق میں جو سب سے افضل و اعلی  جماعت ہے اسے اور بھی بڑی  ذمہ داری عطا فرما ئی اور مخلوق میں سب سےعظیم مرتبہ پہ  فا ئز  فرمایا۔
چونکہ ساری کائنات کو اسی نے پیدا فرمایا اس لیے وہی جانتا ہیکہ بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے کس طرح کے قوانین اور رہنما بھیجے جائیں اس لیے دور اور زمانے کے لحاظ سے انبیاءعلیہم السلام  کو معجزات  وکمالات کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
بعثت کے مقاصد میں سے۔
۱۔ توحید پرستی کی دعوت دینا اور کفر و شرک سے باز رکھنا ۔
۲۔لوگوں کی ہدایت و رہنماءی کرنا اور ضلالت و گمراہی سے روکنا۔
۳۔لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنا۔
۴۔علم کی شمع روشن کرنا اور جاہلیت کو دور کرنا  اور دین کی ہدایت دینا۔
۵۔لو گوں کے باہمی معاملات میں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اختلاف کو دور کرنا۔
۱۔لوگوں کو توحید پرستی کی دعوت دینا اور کفر و شرک سے باز رکھنا۔قرآن پاک میں بہت سی آیتیں ہیں جسکے ذریعہ اللہ پاک نے وحدانیت کی دعوت دی اور شرک سے بچنے کو کہا ۔
اللہ پاک فرماتا ہے۔
تم فرماؤ وہ اللّٰہ ہے وہ ایک ہے ۔ (سورہ اخلاص آیت نمبر ۱)
چونکہ اس دور مین جب لوگ تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور ہر طاقتورچیز چاند،سورج،  آگ،پانی،مٹی،ہوا،درخت،پہاڑ،پتھر الغرض جس چیز کو بھی نفع بخش سمجھتےاسے اپنا معبود تسلیم کرلیتے اور اسکی پوجا کرنے لگتے۔
تو جب اللہ کے رسولﷺ نے ایک خدائے وحدہ لاشریک کو اپنا معبود مان نے اور اس کی عبادت کی دعوت دی تو لوگوں نے طرح طرح کےسوالات کرنے شروع کردیے۔
       کوئی کہتا اسکا نسب کیا ہے؟ کوئی کہتا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا لکڑی و غیرہ کس چیز کا ہے؟کوئی کہتا وہ کیا کھاتا ہے کیا پیتا ہے؟  اسطرح کے کئی سوالات لوگوں نے کیے  جس کے جواب میں اللہ پاک نے یہ پوری سورت(اخلاص) نازل فر مائی اور اپنی ذات و صفات کا بیان فرماکرمعرفت کی راہ واضح کردی۔ (خلاصہ تفسیرخزئن العرفان)
اللہ تعالی اپنی عبادت کرنے اور شرک  سے باز رہنے کی تعلیم دیتے ہوے فرماتا ہے۔
اے سننے والے اللّٰہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تُو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو  (بنی اسرائیل  آیت  ۲۲، ۲)
۲۔۔لوگوں کی ہدایت و رہنماءی کرنا اور ضلالت و گمراہی سے روکنا۔
یہ بہت ہی اہم ہدف اور تمام مقاصد کا سر چشمہ ہے اور یہی بعثت انبیا کا خاص مقصد بھی ہے۔
اللہ پاک فرماتا ہے۔ 
کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے
وہ کون وہ اللّٰہ کا رسولﷺ کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے    (البینۃ آیت نمبر ۱، ۲)
اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے۔
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی ۔
ان آ یتوں سے اسکی وضاحت فرمائی کہ ہدایت  بھی اپنے انبیا و مرسلین کے ذریعہ فرمائی۔( طہ آیت نمبر ۵۰ )
۳۔لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنا۔
بعثت نبوی کا یہ بھی ایک اہم مقصد ہے کہ بغیر تعلیم و تربیت کے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل نہیں ہو سکتی اور ذیل آیت پاک میں تو تعلیم سے قبل تزکیہ کا ذکر فرما کر اسکی افادت و اہمیت بھی ظاہر کردیا کہ بغیر تزکیہ کے اللہ پاک کا قرب نہیں حاصل ہوتا اور یہ بھی کہ بعثت نبیﷺ اللہ پاک کا بندوں پہ بہت بڑا احسان ہے۔
بے شک اللّٰہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہےاور انھیں پاک کرتا ہےاور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہےاور وہ ضرور اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے ۔                  (آل عمران)
اس آیت پاک میں بعثت رسولﷺ کے بہت سے مقاصد اللہ پاک نے بیان فرمایا۔
۴۔علم کی شمع روشن کرنا اور جاہلیت کو دور کرنا  اور دین کی ہدایت دینا ۔
قرآن پاک نے اسے بھی بیان فرمایا ۔
اللّٰہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔ (البقرۃ)

۵۔لو گوں کے باہمی معاملات میں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اور اختلاف کو دور کرنا۔قرآن پاک نے اسےبھی بیان فرماتے ہوے فرمایا:
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کوروشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں  (الحدید)
اور دوسری آیت میں اسطرح ارشاد پاک ہے۔
بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتاہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو ۔ (النحل  آیت نمبر ۹۰)
اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بیشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے ۔(النحل  آیت نمبر۹۱)
الحاصل:تمام انبیاعلیہم السلام کو بندوں کی ہدایت و رہنمائی کرکے توحید پرستی ،تعلیم وتربیت اور تزکیہ ،اخلاق و آداب،اور پوری دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا کہ ہر طرح کی بے دینی ظلم ہے اور ظلم اللہ پاک کو پسند نہیں ہے۔اور تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام نے اپنی اس ذمہ داری کو کما حقہ ادا فرمایا اور بعثت کے مقصد کو پورا فرمادیا۔
سب سے پہلے ہادی حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ پاک نے اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا اور اسی طرح دیگر انبیاعلیہم السلام کو بھیجتا رہا اور سب سے آخر میں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور اس طرح  اس سلسلہ نبوت کو ختم فرمادیا۔
اور چونکہ اسکی ضرورت ہر وقت ہے اس لیے ہدایت و رہنمائی کی ذمہ داری  اپنے حبیب ﷺ کی امت میں سے علما،صلحا ، صوفیہ،اور مجددین کے سپرد فرمایا جسے وہ انجام دے رہے ہیں۔


No comments:

Post a Comment