Sunday, May 1, 2016

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن


اہل  اسلام  کی   مادران   شفیق
بانوان طہارت پہ لاکھوں سلام
حضور ﷺ کی نسبت مبارک کی وجہ سے ازواج مطہرات کا بھی بہت ہی بلند مرتبہ ہے  ان کی شان میں قرآن پاک کی بہت سییات نازل ہوئیں ، جن میں  ان کی عظمتوں کا تذکرہ اور انک رفعت شان کا بیان ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے : (سیرت مصطفی جان رحمت)
ینساء النبی لستن کاحدمن النساء ان اتقیتن         (احزاب)
اے نبی کی بیویو !تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو،اگر اللہ سے ڈرو۔ (کنزالایمان)
اور پھر دوسری آیت میں فرماتا ہے۔
وَ اَزْوَاجُه
ٓ اُمَّهٰتُهُمْ         (احزاب)
اور اس (نبی) کی بیویاں ان (مومنین) کی مائیں ہیں۔  (کنزالایمان)
یہ تمام امت کا متفقہ علیہ مسئلہ ہے کہ حضورﷺ کی مقس بیویاں دو باتوں میں حقیقی ماں کی مثل ہیں۔
(۱)ان کے ساتھ ہمیشہ ہمیش کے لیے کسی کا نکاح جائز نہیں۔
(۲)ان کی تعظہم و تکریم ہر امتی پر اسی طرح لازم ہے جس طرح حقیقی ماں کی بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ لیکن نظر اور خلوت کے معاملہ میں ازواج مطہرات کا حکم حقیقی ماں کہ طرح نہیں ہے کیوں کہ قرآن مجید میں  اللہ تالی کا ارشاد پاک ہے۔
وازا ساء لتمو ہن متاعا فاسءلو ھن من وراء حجاب  (احزاب)
جب نبی کی بیویوں سے تم لوگ کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔
مسلمان اپنی حقیقی ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کرسکتاہے مگر حضورﷺ کی مقدس بیویوں سے ہر مسلمان  کی لیے پردہ فرض ہے  اور تنہائی میں ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے۔
 (سیرت مصطفی جان رحمت سوم صفحہ ۱۴۷ مطبوعہ مرکزاہلسنت برکات رضا، پور بندر گجرات)

رسول اللہ ﷺ کےنکاح شریف میں گیارہ  خواتیں کو ُآنے کا شرف حاصل ہوا  اور جن میں دس بیوہ تھیں اور صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی اپنے پہلے ہی نکاح میں آپ کی زوجیت میں آئی تھیں ، ان تمام میں سے ہر ایک کا مختصر تذکرہ :
(۱)حضرت خدیجہ بنت خویلدضی اللہ عنہا :
رسول اللہ ﷺ نے عالم شباب میں صرف ایک خاتون سے نکاح فرمایا اور ان کے انتقال کے بعد ہی آپ نے دوسرا نکاح فرمایا  اور وہ ہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  ہیں۔
یہ حضورِ اقدس ﷺ کی سب سے پہلی زوجہ ہیں، ان کے والد کا نام خویلد بن اسد اور ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ ہے۔ یہ خاندان قریش کی چالیس سالہ  بہت ہی معزز اور نہایت ہی دولت مند پاکیزہ اخلاق  خاتون تھیں، مکہ والے ان کی پاک دامنی اور پارسائی کی بنا پر انکو “طاہرہ” کے لقب سے یاد کرتے تھے ان کی پہلی شادی ابو ہیلہ بن زرارہ تمیمی سے ہوئی تھی، اور انکے انتقال کے بعد عتیق ابن عائذ کے ساتھ عقد ہوااور ان کے انتقال کے بعد  انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق و عادات اور جمالِ صورت و کمالِ سیرت کو دیکھ کر خود ہی حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح کی رغبت ظاہر کی اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرات سے مشورہ فرما کر نکاح فرمالیا  اور اس طرح کے آپ کے چچا حمزہ بن عبدالمطلب آپ کے ساتھ گئے اور آپ کی نسبت کرادی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ کی عمر پچیس اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ   حضرت ابراہیم  کے سوا ،رسول اللہ ﷺ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے  ہی ہوی یعنی القاسم ، جن کے نام  سےآپ کنیت فرمایا کرتے تھے،طاہر،طیب، زینب، رقیہ،امکلثوم،اور فاطمہ رضی اللہ عنہم ان ہیں (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ) سے تھے ۔
عورتوں میں سب سے پہلے انہوں نے ہی اسلام قبول کیا ، اور ابتداء اسلام میں جب کہ ہر طرف سے آپ ﷺ کی مخالفت کا طوفان اُٹھ رہا تھا ایسے کٹھن وقت میں صرف انہیں کی ایک ذات تھی جو رسول اﷲ ﷺ کی ہر طرح سے مدد کرتی رہی اور کبھی مایوس نہیں ہونے دیا  ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتی رہی اور ہر طرح مے مدد کی، اور اس وصف میں وہ اس قدر بلند ہیں کہ انہیں تمام ازواج مطہرات میں ایک خاص مقام حاصل ہے.
حدیث پاک میں ہے :
عن علی عن النبی ﷺ قال خیر نسائھا مریم وخیر نسائھا خدیجۃ ۔
(بخاری شریف جلد اول صفحہ۵۳۸ باب تزویج النبی ﷺ مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃالاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ)
یعنی حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ علیہ وسلم سے مروی ہے حضرت مریم اپنے زمانہ میں سب سے افضل  اور حضرت خدیجہ اپنی قوم میں سب سے افضل ہیں ۔
ایک اور حدیث میں ہے  ، جسکا ترجمہ:
حضرت جبریل علیہ السلام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اورعرض کیا کہ اے محمد! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ خدیجہ ہیں جو آپ کے پاس ایک برتن لے کر آ رہی ہیں جس میں کھانا ہے۔ جب یہ آپ کے پاس آ جائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیں اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیں کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہو گا نہ کوئی تکلیف ہو گی۔
(بخاری شریف جلد اول صفحہ ۵۳۹ باب تزویج النبی ﷺ مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃالاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ)
(۲) حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:
جب حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیاآپ بہت پریشان رہنے لگے ، پھر آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے نکاح فرمایا ۔ یہ بھی بیوہ تھیں ۔ انکے پہلے شوہر کا نام سکران بن عمرو تھا جو ان کا چچا زاد بھائی تھا ، یہ دونوں ابتدائے اسلام میں ہی مسلمان ہو گئے تھے اور ان دونوں نے حبشہ کی ہجرت ثانیہ کا شرف بھی حاصل کیا تھا۔
جب حبشہ سے واپس دونوں مکہ مکرمہ آئے تو ان کے شوہر سکران بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے اور یہ بیوہ ہوگئی تھیں ان کے ایک لڑکا بھی تھا جن کا نام “عبدالرحمن” تھا ،لیکن رسو ل اللہﷺ سے نکاح کے بعد آپ کی کوئیئ اولاد نہ ہوی یہاں تک کہ آپ ﷺ وصال فرماگئے، اور حضڑت سودہ  رضی اللہ تعالی عنہا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخر دور خلافت میں انتقال فرمائی ۔
 ( تخلیص،سیرت ابن اسحق مترجم باب ۳۹ صفحہ ۳۵۶ مطبوعہ ملی پبلیکیشن، جامعہ نگر، نیو دیلہی)
(۳)حضرت عائشہ  بنت ابوبکررضی اللہ عنہا:
یہ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ہیں ، یہ چھ برس کی تھیں جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوال ۲ ھ میں مدینہ منورہ کے اندر یہ کاشانہ نبوت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ ازواجِ مطہرات میں یہی کنواری تھیں اور سب سے زیادہ بارگاہ نبوت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی الٰہی اترتی رہتی ہے۔
حجرت عائشہ بہت ہی ذہین  زیرک اور فہیم تھیں، تعلیم صحابیات کے کیے ان کو بہت سی  چیزیں رسول اللہ ﷺ نے  پڑھائی تھیں ، اورآپ کو وہ علم وفضل عطا ہو گیا تھا  کہ بڑے بڑے صحابہ بہت سے مسائل میں آپ کی جا نب رجوع فرمایا رتے تھے، انہیں میں سے ایک اخلاق والا مسئلہ ہے جسکے جواب میں آپ نے ‘‘ کان خلقہ القرآن’’ فرمایا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کی خدمت اقدس میں ۹ سال رہیں اور رسول اللہ ﷺ کے اس دنیا سے بظاہر تشریف لے جانے کے بعد ۴۵ سال آپ باحیات رہیں اور ؁۵۷ھ میں ۶۶ سال کی عمر وفات پائی۔
(۴)حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا :
حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بنت حضرت عمر ابن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت زینب بنت مظعون رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو ایک مشہورصحابیہ ہیں۔ حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شادی حضرت خنیس بن حذافہ( سہمی )رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوئی  تھی اور وہ  اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ طیبہ کو ہجرت بھی کی تھی لیکن ان کے شوہر جنگ بدر میں زخمی ہو کر وفات پا گئے اور یہ بیوہ ہو گئیں پھر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ۳ ؁ھ میں ان سے نکاح فرمایا اور یہ ام المؤمنین کی حیثیت سے کاشانۂ نبوی کی سکونت سے مشرف ہوگئیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذہن غضب کا تیز تھا اور علوم حدیث  و فقہ سے بھی کافی واقفیت تھی ، ۴۵ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔
(۵)ام المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا :
انکا نام  زینب تھا  فقرا اور مساکین کو بہت کھلاتی پلاتی تھیں ، اس لیے ‘ام المساکین ’ کنیت ہو گئی تھی ،سیرت ابن اسحق میں ہیکہ  پہلے ان کا نکاح حصیبن بن حارث یا انکے بھائی طفیل بن حارث بن مطلب بن عبد مناف کے نکاح میں تھیں، ؁۳ ھ میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد صرف دو مہینے یا تین مہینے زندہ رہیں اور ربیع الآخر ۴ ؁ھ میں تیس برس کی عمر پاکر وفات پا گئیں  اور خود رسول اللہ ﷺ نے نمازہ جنازہ پڑھائی تھی اور جنت البقیع  میں مدفون ہویں ۔
(۶)حضرت ام سلمہ بنت  عاتکہ بنت عامر  رضی اللہ عنہا :
نام ہند ‘ ام سلمہ کنیت  ہے  اور آپ کنییت سے ہی مشہور تھیں ،اورآپ کے والد کا نام سہیل تھا، ان کی پہلی شادی ان کے چچیرے اور رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن عبدالاسد سے ہوی تھی ،اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لائیں اور  اور حبشہ کی جانب ہجرت بھی فرمائی تھیں ، آپ کے شوہر غزوہ احد میں زخمی ہو گئے تھے اور اسی سے ۴ ؁ھ میں انتقال کرگئے۔
اور انکےانتقال کے بعد  رسول پاک ﷺ کے عقد شریف میں آنے کا شرف حاصل ہوا ، اور رسول پاک ﷺ کے ظاہری دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی کافی دنوں تک باحیا ت رہیں،حضرت جبریل علیہ السلام نے جو مٹی لاکر کربلا کی دی تھی وہ آپ نے حضرت امسلمہ کو ہی دیا تھا ،واقعہ کربلا کے بعد آپکا انتقال ہوا ، اس وقت آپ کی عمر شریف ۸۴ سال تھی۔
(۷)حضرت زینب حجش رضی اللہ عنہا :
یہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھیری بہن تھیں، ان کی شادی رسول اللہ ﷺ نے اپنے متبنی ( منہ بولے بیٹے) اور غلام حضرت زید بن حارثہ سے کردی تھی، لیکن دونوں کا یہ رشتہ ازدواج کامیاب نہ رہا اور طلاق ہوگئی۔
جب حضرت زید سے طلاق ہو گئی تو خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرمالیا ، یہ بہر ہی عابدہ زاہدہ اور نہایت ہی حسین وجمیل تھی،روسل اللہ ﷺ کے وصال کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے آپ ہی کا انتقال ہوا، انقال ۲۰ ھ میں ہوا تھا اور اس وقت آپ کی عمر ۵۳ سال تھی۔
(۸)حضرت جویرہ  بن حارث رضی اللہ عنہا :
یہ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار اعظم حارث بن ابوضرار کی بیٹی ہیں “غزوہ مریسیع” میں جو کفار مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو کر قیدی بنائے گئے تھے ان ہی قیدیوں میں حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ جب قیدیوں کو لونڈی غلام بنا کر مجاہدین پر تقسیم کر دیا گیا تو حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت ثابت بن قیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں ذی وجاہت خاندان کی تھیں، غلامی کو غیرت نے گوارا نہ کیا ، ۱۹اوقیہ سونے پر ثابت سے علیحدگی کی شرط قرار پائی، لہیکن پاس کچھ نہ تھا ،رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی عظمت اور خاندانی وجاہت بیان کیا  اپنے قبیلے کے سردار اعظم حارث بن ابوضرار کی بیٹی ہوں اور مسلمان ہو چکی ہوں کہ اور مدد طلب کی، آپ نے وہ عقم ادا کرکے ان کی مرضی سے ان سے نکاح فرمالیا، اس رشتہ کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے بنی مصطلق کے تمام غلام اور لونڈی کو آزاد کردیے، آپ کا وصال ۶۵ سال کی عمر میں ۵۰ھ کو ہوا۔
(۹)حضرت ام حبیبہ  بنت ابوسفیان بن  حرب رضی اللہ تعالی عنہا :
ان کا نام “رملہ” اور ام حبیبہ کنیت ہے۔ خاندان قریش سے تھیں ان کے والد سردار مکہ ابوسفیان بن حرب ہیں اور ان کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابو العاص ہے جو امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی ہیں۔
یہ پہلے عبید اﷲ بن جحش کے نکاح میں تھیں اور میاں بیوی دونوں نے اسلام قبول کیا اور دونوں ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے۔ لیکن حبشہ پہنچ کر ان کے شوہر عبیداﷲ بن جحش پر ایسی بدنصیبی سوار ہو گئی کہ وہ اسلام سے مرتد ہو کر نصرانی ہوگیا اور شراب پیتے پیتے نصرانیت ہی پر وہ مر گیا اور یہ اسلام پہ قائم رہیں اس لیے عبید اللہ نعے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے شادی کا پیغام بھیجا ، جسے ان ہوں نے قبول کرلیا نجاشی کی وکالت میں چار سو دینار پر عقدہوا، نکاح کے بعد حضرت ام حبیبہ کو شرجیل بن حسنہ کے ساتھ   نجاشی شاہ جیش نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ منوہ بھیج دیا ،  انک اوصال ۴۴ھ مٰن ہوا تھا ۔
(۱۰)حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا:

ان کے والد کا نام حارث بن حزن ہے اور ان کی والدہ ہند بنت عوف ہیں ۔ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا نام پہلے ” برہ ” تھا لیکن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر ” میمونہ ” (برکت دہندہ) رکھ دیا۔
یہ پہلے ابو رہم بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں مگر جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ۷ ھ میں عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو یہ بیوہ ہو چکی تھیں حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کے بارے میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے گفتگو کی اور آپ نے ان سے نکاح فرما لیا اور عمرۃ القضاء سے واپسی پر مقام ” سرف ” میں ان کو اپنی صحبت سے سرفراز فرمایا۔
یہ حضور ﷺ کی آخری زوجہ  مبارکہ ہیں ان کے بعد حضور ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔
ان کے  انتقال کے سال میں مورخین کا اختلاف ہے مگر قول مشہور یہ ہے کہ انہوں نے ۵۱؁ھ میں بمقام ‘‘سرف’’ وفات پائی جہاں رسول ﷺ نے ان سے زفاف فرمایا تھا۔
 ابن سعد نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ اہوں نے ۶۲؁ھ میں وفات پائی۔
اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ۶۳؁ھ ان انتقال کا سال ہے۔
(سیرت مصطفی جان رحمت سوم صفحہ ۱۹۴)

(۱۱)حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ تعالی عنہا:
ان کا اصلی نام زینب تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام “صفیہ” رکھ دیا۔ یہ یہودیوں کے قبیلہ بنو نضیر کے سردار اعظم حیی بن اخطب کی بیٹی ہیں اور ان کی ماں کا نام ضرہ بنت سموئل ہے۔ یہ خاندان بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ان کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق بھی بنو نضیر کا رئیس اعظم تھا جو جنگ خیبر میں قتل ہو گیا۔
محرم ۷ ھ میں جب خیبرکومسلمانوں نے فتح کر لیااورتمام اسیران جنگ گرفتار کر کے اکٹھا جمع کئے گئے تو اس وقت حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک لونڈی طلب کی، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی پسند سے ان قیدیوں میں سے کوئی لونڈی لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو لے لیا مگر ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) حضرت صفیہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی شاہ زادی ہیں۔ ان کے خاندانی اعزاز کا تقاضا ہے کہ آپ ان کو اپنی ازواجِ مطہرات میں شامل فرما لیں۔

چنانچہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو حضرت دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے لے لیا اور ان کے بدلے میں انہیں ایک دوسری لونڈی عطا فرما دی, پھر حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا ,اور جنگ خیبر سے واپسی میں تین دنوں تک منزل صہبا میں ان کو اپنے خیمہ کے اندر اپنی قربت سے سرفراز فرمایا اور دعوت ولیمہ میں کھجور، گھی، پنیر کا مالیدہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کھلایا .
 حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت بی بی صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر بہت ہی خصوصی توجہ اور انتہائی کریمانہ عنایت فرماتے تھے اور اس قدر ان کا خیال رکھتے تھے کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر غیرت سوار ہو جایا کرتی تھی۔
ان کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔
واقدی کا قول ہے کہ ۵۰ھ میں ان کی وفات ہوئی۔
اورابن سعد نے لکھا ہے کہ ۵۲ھ میں ان کا انتقال ہوا۔
بوقت رحلت ان کی عمر ساٹھ (۶۰) برس کی تھی، یہ بھی مدینہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع مین سپرد خاک کی گئیں۔
(سیرت مصطفی جان رحمت سوم صفحہ ۱۹۸)
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے علاوہ حضورﷺ کی چار باندیاں بھی تھیں جو آپ کے زیر تصرف تھیں جنکے نام حسب ذیل ہیں:
حضرت ماریہ قطبیہ
حضرت ریحانہ
حضرت نفیسہ
حضرت جمیلہ۔ رضی اللہ تعالی عنہن۔
(مدارج البوۃ جلد دوم وسیرت مصطفی ملتقطا بحوالہ سیرت مصطفی جان رحمت سوم صفحہ ۱۹۹ مطبوعہ مرکزاہلسنت برکات رضا، پور بندر گجرات)



اس مضمون میں مذکورہ حوالہ جات کے علاوی تاریخ اسلام ، ضیاء النبی، سیرت ابن ہشام، سیرت النبی  سے استفادہ کیا گیا ہے۔


No comments:

Post a Comment